اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ’کیتھرین شاکڈم‘ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس بیان کہ بشارالاسد اور ان کے حلیف دانستہ طور پر بحران کو طول دے رہے ہیں اور برطانوی پالیمنٹ نے شام پر حملے کے امریکی منصوبے کو ناکام بنادیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سامراجی ایجنڈے کے مخالف ممالک کے خلاف جنگ شروع کرنے کو ٓامادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں برطانیہ کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور یہ حقیقت میں تنقید سےبچنے کی اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ایک کوشش ہے۔
انہوں نے کہاکہ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے اور شام پر مغرب کی لشکر کشی کا منصوبہ اب پوری طرح ناکام ہوا ہے اس لئے امریکہ شام میں اپنی ناکامی کا ذمہ دار دیگر ممالک کو ٹھہرانے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جان کیری ایک ایسی پرامن حکومت کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات لگا رہے ہیں کہ جس نے کھبی بھی امریکہ یا برطانیہ کی قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عرب جمہوریہ شام امریکی سامراج اور اسکے پیدا کردہ خارجیوں کے مظالم کا شکار ہے۔
امریکی وزير خارجہ جان کیری نے ایک مخفیانہ صوتی فائل میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لئے داعش سے استفادہ کیا اور داعش کو مدد فراہم کی۔
امریکی وزیر خارجہ نے صوتی فائل میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے سلسلے میں سعودی عرب، ترکی ، اسرائيل اور قطر بھی امریکہ کے ہمراہ تھے۔
واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲